نبی
ایوب علیہ السلام
صبر کا بے مثال نمونہ
مال، اولاد اور طویل علالت کی سخت آزمائش میں ڈالے گئے، مگر ہر حال میں صابر و شاکر رہے۔ اللہ نے انہیں شفاء عطا فرمائی اور کھوئی ہوئی تمام نعمتیں دوگنا کر کے لوٹا دیں۔
نبی: اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے جنہیں شرفِ وحی حاصل ہوا لیکن نئی شریعت کے حامل نہ تھے۔
- مبعوث برائے قوم
- ان کی قوم
- علاقہ و مسکن
- سرزمین شام (بلحاظ تاریخ)
- قرآن میں ذکر
- نام کے ساتھ 4 بار
اہم واقعات
- شدید تکلیف اور مرض میں مبتلا ہوئے (21:83؛ 38:41)؛ مورخین کے مطابق مال و اولاد سب چھن گئے تھے۔
- عاجزی سے دعا کی: «مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے» (21:83)۔
- زمین پر پاؤں مارنے کا حکم ملا؛ ٹھنڈا چشمہ پھوٹ پڑا جس سے نہا کر اور پی کر مکمل شفایاب ہوئے (38:42)۔
- اللہ نے ان کے اہل و عیال اور نعمتیں پہلے سے دگنی عطا فرما دیں (38:43)۔
- رب نے گواہی دی: «ہم نے اسے صابر پایا، کیسا بہترین بندہ تھا!» (38:44)۔
عبرت و نصیحت
سختیوں میں صبر جمیل اور اللہ کی رحمت پر غیر متزلزل یقین رکھنا چاہیے۔
قرآن مجید میں
آدم سے نسب
نسب کے بارے میں: ابن اسحاق جیسے مورخین ان کا نسب عیص بن اسحاق سے جوڑتے ہیں۔