اولو العزم
ابراہیم علیہ السلام
خلیل اللہ، اللہ کے برگزیدہ دوست
انبیاء کے باپ اور خالص توحید (حنیفیت) کے علمبردار۔ قوم کے بت توڑے، آگ میں سلامت رہے، اور اپنے بیٹے اسماعیل کے ساتھ مل کر بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر فرمائی۔
اولو العزم کا مفہوم ہے پختہ ارادے اور صبر و استقامت کے پیکر: یہ پانچ عظیم ترین پیغمبر ہیں: نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد ﷺ (46:35؛ 33:7)۔ نبی: اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے جنہیں شرفِ وحی حاصل ہوا لیکن نئی شریعت کے حامل نہ تھے۔
- مبعوث برائے قوم
- عراق کے باشندے، پھر شام اور حجاز کی سرزمین
- علاقہ و مسکن
- عراق ← فلسطین ← مکہ مکرمہ
- صحیفہ / کتاب
- صحیفہ ہائے ابراہیم (87:19)
- قرآن میں ذکر
- نام کے ساتھ 69 بار
اہم واقعات
- ستارے، چاند اور سورج کے مشاہدے سے قوم پر ثابت کیا کہ صرف خالق ہی عبادت کے لائق ہے (6:76-79)۔
- بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کو توڑ ڈالا اور فرمایا اسی سے پوچھ لو (21:58-63)۔
- دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے گئے جسے اللہ نے ان پر ٹھنڈک اور سلامتی بنا دیا (21:69)۔
- بڑھاپے میں اسماعیل اور بعد ازاں اسحاق کی بشارت سے نوازے گئے (14:39)۔
- خواب میں بیٹے کی قربانی کا حکم ملا تو سر تسلیم خم کر دیا؛ اللہ نے بدلے میں عظیم قربانی فدیہ دی (37:102-107)۔ جمہور کے نزدیک وہ فرزند اسماعیل تھے۔
- بیٹے اسماعیل کے ساتھ مل کر کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں اور حج کا اعلان فرمایا (2:127؛ 22:27)۔
عبرت و نصیحت
سخت ترین آزمائشوں میں بھی اللہ کے حکم پر بلا جھجک مکمل سپردگی۔